نئی دہلی،20؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بی جے پی لیڈر اور راجیہ سبھا کے نامزد ایم پی سبرامنیم سوامی بھی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے گھر کے سامنے مہیش گری کی بھوک ہڑتال میں شامل ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ رگھو رام راجن کے بعد اب وہ دہلی کے وزیر اعلی کو بے نقاب کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔سوامی نے کہاکہ پوری زندگی میں انہوں نے (کیجریوال)دھوکہ ہی دیا ہے۔وہ کہتے ہیں وہ آئی آئی ٹی کے ہونہار طالب علم ہیں،لیکن میرے پاس معلومات ہے کہ انہوں نے کس طرح داخلہ لیا تھا جسے میں پریس کانفرنس میں بے نقاب کروں گا۔اب تک میں راجن کے پیچھے پڑا تھا اور وہ جا رہے ہیں۔واضح رہے کہ مہیش گری دہلی سے بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ ہیں اور کل سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔مہیش گری کیجریوال سے اپنے اوپر این ڈی ایم سی کے وکیل ایم ایم خان کے قتل کا الزام لگانے پر معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بی جے پی ایم پی نے آج کہا کہ اگر ضرورت ہے تو مجھ سے سوال کریں اور زیادہ ضروری ہو تو گرفتار بھی کریں۔کیجریوال نے ایک خط میں الزام لگایا تھا کہ دہلی کے ایل جی نجیب جنگ مہیش گری کا دفاع کر رہے ہیں جن کے قتل کے ملزم سے تعلقات ہیں۔سوامی نے کہا کہ وہ اور مہیش گری اس وقت تک بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک کہ کیجریوال معافی نہیں مانگتے یا پھر استعفی نہیں دیتے۔کیجریوال نے بھی ٹوئٹ کر کے کہا ہے کہ گری کو مودی پولیس کی طرف سے ایم ایم خان قتل معاملہ میں گرفتار کیا جانا چاہیے ۔مودی پولیس ان کوبچا رہی ہے۔کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کا الزام ہے کہ مہیش گری اور دہلی میونسپل کونسل کے نائب صدر کرن سنگھ تنور جو بی جے پی کے لیڈر ہیں، کا اس قتل میں مشتبہ کردار ہے۔دہلی پولیس کے مطابق معاملے میں ان دونوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔گزشتہ ہفتے ہی بی جے پی ممبر پارلیمنٹ نے خط لکھ کر کیجریوال کو اتوار کو عوامی بحث کا چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیجریوال ان کے خلاف ثبوت پیش کریں۔